اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ سعودی عرب کے عظیم دانشمند اور دنیائے اسلام کے مفکر آیت اللہ شیخ عبد الہادی الفضلی کی مجلس ترحیم گزشتہ شب ۔ بدھ ۱۰ اپریل۔ نماز مغربین کے بعد قم مسجد اعظم میں منعقد ہوئی۔مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ آیت اللہ محسن اراکی نے اس پروگرام میں شریک ملکی اور غیر ملکی علماء اور فضلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مرحوم آیت اللہ فضلی ایک عالم، مجاہد، پرتلاش اور کوشاں آدمی تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی علوم محمد اور آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت میں صرف کر دی۔ اس عالم ربانی نے تعلیمات اہلبیت(ع) کی نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ اس دشوار اور گھٹن کے سے ماحول میں خاموش جہاد کی ذمہ داری کو بھی اپنے دوش پر اٹھا رکھا تھا۔مجمع جہانی تقریب مذاہب کے سربراہ نےکہا: اس مرد مجاہد نے دشمن کے قلب میں رہ کر مکتب اہلبیت(ع) کی بے لوث خدمت کی اور معارف اہلبیت(ع) کو اپنے قلم اور زبان سے پھیلانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا: پیغمبر اکرم (ص) کے بعد دنیائے اسلام میں ایک مشکل یہ بھی وجود میں آئی کہ حقائق قرآنی کو مخفی کیا جانے لگا مختلف طریقوں سے کبھی ان میں لفظی اور معنوی تحریف کر کے، کبھی غلط تفسیر بیان کر کے۔ اور اس سازش کے خلاف حقائق قرآنی کی تبیین و تفسیر ایک عظیم جہاد تھا جسے ائمہ ہدیٰ(ع) نے بھی انجام دیا۔ امام صادق علیہ السلام نے اس میدان میں سب سے زیادہ مجاہدت کی اور علوم آل محمد(ص) کو کتمان اور مخفی کرنےسے بچایا۔آیت اللہ اراکی نے آیت اللہ الفضلی کو سیرت ائمہ (ع) کے سائے میں جہاد تفسیری بجا لانے والوں کے سپہ سالاروں میں کی ایک فرد قرار دیتے ہوئے کہا: اس عظیم مفکر نے اپنے دور کے بزرگ علماء کی شاگردی اختیار کر کے ان سے علوم اہلبیت (ع) کو سادہ زبان میں تبیین و تفسیر کرنے کے طریقہ کار کو سیکھ کر اسے عملی جامہ پہنایا۔انہوں نے مزید کہا: ایسے دور میں جب حوزہ میں رائج نصاب پر تجدید نظر کرنا قابل تصور نہیں تھا انہوں نے ایک نئ روش کے ساتھ نصاب حوزہ کو تدوین کیا اور حوزہ علمیہ عراق میں انقلاب پیدا کر دیا۔ انہوں نے اصول، فقہ اور منطق جیسی کتابوں میں تجدید نظر کی۔ اور فقہ جعفری کو سازہ اور سلیس زبان میں تدوین کیا۔ انہوں نے کہا: علامہ عبد الہادی الفضلی نے اپنی عمر کے آخری دہائیوں میں عراق سے سعودی عرب ہجرت کی اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں استاد بن کر ایک خاموش اور حکیمانہ جہاد کا آغاز کر دیا۔ اور سعودی عرب کے ایسے ماحول میں کہ جہاں کھلے عام منبر سے تعلیمات اہلبیت (ع) کی نشر و اشاعت کی ہر کوئی جرئت نہیں کر سکتا علامہ فضلی نے اپنی حکیمانہ تدابیر سے علوم محمد و آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت کی۔آیت اللہ اراکی نے آخر میں کہا: ہمارے دور میں مذہب تشیع ہر دور سے زیادہ ثقافتی یلغار کا شکار ہے ایسے میں ہماری سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم حکیمانہ انداز میں معارف اہلبیت (ع) کو دنیا والوں تک پہنچائیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
10 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 408187
آیت اللہ اراکی نے قم میں شیخ فضلی کی رحلت پر منعقدہ مجلس ترحیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا: مرحوم آیت اللہ فضلی ایک عالم، مجاہد، پرتلاش اور کوشاں آدمی تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی علوم محمد اور آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت میں صرف کر دی۔ اس عالم ربانی نے تعلیمات اہلبیت(ع) کی نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ اس دشوار اور گھٹن زدہ ماحول میں خاموش جہاد کی ذمہ داری کو بھی اپنے دوش پر اٹھا رکھا تھا۔